کلامِ ظفرردیف ی
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
۱
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھیجیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
۲
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قراربے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
۳
اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادوکہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۴
عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایاتاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
۵
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیفسخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
۶
پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوںآتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی
۷
نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دلوہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی
۸
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکنجیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی
۹
کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بارخو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۳۱ / ۵۲