کلامِ ظفرردیف و

یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو

۱

یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنومرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو

۲

سناؤ درد دل اپنا تو دم بہ دم فریادمثال نے مری ہر ایک استخواں سے سنو

۳

کرو ہزار ستم لے کے ذکر کیا یک یارشکایت اپنی تم اس اپنے نیم جاں سے سنو

۴

خدا کے واسطے اے ہمدمو نہ بولو تمپیام لایا ہے کیا نامہ بر وہاں سے سنو

۵

تمہارے عشق نے رسوا کیا جہاں میں ہمیںہمارا ذکر نہ تم کیونکہ اک جہاں سے سنو

۶

سنو تم اپنی جو تیغ نگاہ کے اوصافجو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو

۷

ظفرؔ وہ بوسہ تو کیا دے گا پر کوئی دشنامجو تم کو سننا ہو اس شوخ دلستاں سے سنو

۳۰ / ۵۲