کلامِ ظفرردیف ی

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی

۱

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئیہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی

۲

کیا تماشا ہے رگ لیلیٰ میں ڈوبا نیشترفصد مجنوں باعث جوش محبت کھل گئی

۳

دل کا سودا اک نگہ پر ہے تری ٹھہرا ہوانرخ تو کیا پوچھتا ہے اب تو قیمت کھل گئی

۴

آئینے کو ناز تھا کیا اپنے روئے صاف پرآنکھ ہی پر دیکھتے ہی تیری صورت کھل گئی

۵

تھی اسیران قفس کو آرزو پرواز کیکھل گئی کھڑکی قفس کی کیا کہ قسمت کھل گئی

۶

تیرے عارض پر ہوا آخر غبار خط نمودکھل گئی آئینہ رو دل کی کدورت کھل گئی

۷

بے تکلف آئے تم کھولے ہوئے بند قبااب گرہ دل کی ہمارے فی الحقیقت کھل گئی

۸

باندھی زاہد نے توکل پر کمر سو بار چستلیکن آخر باعث سستی ہمت کھل گئی

۹

کھلتے کھلتے رک گئے وہ ان کو تو نے اے ظفرؔسچ کہو کس آنکھ سے دیکھا کہ چاہت کھل گئی

۳۲ / ۵۲