کلامِ ظفرردیف ی
شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہیجوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضباور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی
ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہےقامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی
گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہےتو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی
نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گلباریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی
ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفاہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی
محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹجالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی
وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکالناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی
ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سےاور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی
۳۳ / ۵۲