کلامِ ظفرردیف ی

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

۱

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہیجوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

۲

آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضباور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی

۳

ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہےقامت ہے قیامت چال پری چلنے میں پھڑک پھر ویسی ہی

۴

گر رنگ بھبوکا آتش ہے اور بینی شعلۂ سرکش ہےتو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی

۵

نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں ہے نرم شکم اک خرمن گلباریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی

۶

ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سریں رانیں ہیں صفاہے ساق بلوریں شمع ضیا پاؤں کی کفک پھر ویسی ہی

۷

محرم ہے حباب آب رواں سورج کی کرن ہے اس پہ لپٹجالی کی کرتی ہے وہ بلا گوٹے کی دھنک پھر ویسی ہی

۸

وہ گائے تو آفت لائے ہے ہر تال میں لیوے جان نکالناچ اس کا اٹھائے سو فتنے گھنگرو کی جھنک پھر ویسی ہی

۹

ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفرؔ کرتا ہے لگاوٹ مدت سےاور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی

۳۳ / ۵۲