کلامِ ظفرردیف ی

کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی

۱

کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دیپر حیف ترے دل میں محبت نہ ذری دی

۲

دی تو نے مجھے سلطنت بحر و بر اے عشقہونٹوں کو جو خشکی مری آنکھوں کو تری دی

۳

خال لب شیریں کا دیا بوسہ کب اس نےاک چاٹ لگانے کو مرے نیشکری دی

۴

کافر ترے سوائے سر زلف نے مجھ کوکیا کیا نہ پریشانی و آشفتہ سری دی

۵

محنت سے ہے عظمت کہ زمانے میں نگیں کوبے کاوش سینہ نہ کبھی ناموری دی

۶

صیاد نے دی رخصت پرواز پر افسوستو نے نہ اجازت مجھے بے بال و پری دی

۷

کہتا ترا کچھ سوختہ جاں لیک اجل نےفرصت نہ اسے مثل چراغ سحری دی

۸

قسام ازل نے نہ رکھا ہم کو بھی محرومگرچہ نہ دیا کوئی ہنر بے ہنری دی

۹

اس چشم میں ہے سرمے کا دنبالہ پر آشوبکیوں ہاتھ میں بدمست کے بندوق بھری دی

۱۰

دل دے کے کیا ہم نے تری زلف کا سودااک آپ بلا اپنے لیے مول خریدی

۱۱

ساقی نے دیا کیا مجھے اک ساغر سرشارگویا کہ دو عالم سے ظفرؔ بے خبری دی

۳۴ / ۵۲