کلامِ ظفرردیف ی
ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
۱
ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کیآنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی
۲
گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھیپر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی
۳
ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پاجب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی
۴
یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤکچھ پیش نہیں جانے کی تقریر کسی کی
۵
نازاں نہ ہو منعم کہ جہاں تیرا محل ہےہووے گی یہاں پہلے بھی تعمیر کسی کی
۶
میری گرہ دل نہ کھلی ہے نہ کھلے گیجب تک نہ کھلے زلف گرہ گیر کسی کی
۷
آتا بھی اگر ہے تو وہ پھر جائے ہے الٹاجس وقت الٹ جائے ہے تقدیر کسی کی
۸
اس ابرو و مژگاں سے ظفرؔ تیز زیادہخنجر نہ کسی کا ہے نہ شمشیر کسی کی
۹
جو دل سے ادھر جائے نظر دل ہو گرفتارمجرم ہو کوئی اور ہو تقصیر کسی کی
۳۶ / ۵۲