کلامِ ظفرردیف ر
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
۱
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دوردیکھو زمیں فلک سے فلک ہے زمیں سے دور
۲
پروانہ وصل شمع پہ دیتا ہے اپنی جاںکیونکر رہے دل اس کے رخ آتشیں سے دور
۳
مضمون وصل و ہجر جو نامہ میں ہے رقمہے حرف بھی کہیں سے ملے اور کہیں سے دور
۴
گو تیر بے گماں ہے مرے پاس پر ابھیجائے نکل کے سینۂ چرخ بریں سے دور
۵
وہ کون ہے کہ جاتے نہیں آپ جس کے پاسلیکن ہمیشہ بھاگتے ہو تم ہمیں سے دور
۶
حیران ہوں کہ اس کے مقابل ہو آئینہجو پر غرور کھنچتا ہے ماہ مبیں سے دور
۷
یاں تک عدو کا پاس ہے ان کو کہ بزم میںوہ بیٹھتے بھی ہیں تو مرے ہم نشیں سے دور
۸
منظور ہو جو دید تجھے دل کی آنکھ سےپہنچے تری نظر نگہ دور بیں سے دور
۹
دنیائے دوں کی دے نہ محبت خدا ظفرؔانساں کو پھینک دے ہے یہ ایمان و دیں سے دور
۱۴ / ۵۲