کلامِ ظفرردیف ف

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

۱

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلفچیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف

۲

جس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہاس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف

۳

برہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یارشامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف

۴

مطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کامکرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف

۵

ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتارکیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف

۶

آپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شباے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف

۷

کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کوکہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف

۱۶ / ۵۲