کلامِ ظفرردیف ڑ

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ

۱

دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑگھر ہے اللہ کا یہ اس کی تو تعمیر نہ توڑ

۲

غل سدا وادئ وحشت میں رکھوں گا برپااے جنوں دیکھ مرے پاؤں کی زنجیر نہ توڑ

۳

دیکھ ٹک غور سے آئینۂ دل کو میرےاس میں آتا ہے نظر عالم تصویر نہ توڑ

۴

تاج زر کے لیے کیوں شمع کا سر کاٹے ہےرشتۂ الفت پروانہ کو گلگیر نہ توڑ

۵

اپنے بسمل سے یہ کہتا تھا دم نزع وہ شوختھا جو کچھ عہد سو او عاشق دلگیر نہ توڑ

۶

رقص بسمل کا تماشا مجھے دکھلا کوئی دمدست و پا مار کے دم تو تہ شمشیر نہ توڑ

۷

سہم کر اے ظفرؔ اس شوخ کماندار سے کہہکھینچ کر دیکھ مرے سینے سے تو تیر نہ توڑ

۱۵ / ۵۲