کلامِ ظفرردیف ل

نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل

۱

نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصلتمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل

۲

دل آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدلنہ کر اب میری دل جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل

۳

نہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہےجہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل

۴

برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکنکسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل

۵

نہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دےجواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل

۶

چڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہےاسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل

۷

عبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرےکہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل

۸

شمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کوصبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل

۹

نہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانبظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل

۱۷ / ۵۲