کلامِ ظفرردیف ل
نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصلتمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل
دل آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدلنہ کر اب میری دل جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل
نہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہےجہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل
برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکنکسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل
نہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دےجواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل
چڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہےاسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل
عبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرےکہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل
شمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کوصبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل
نہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانبظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل
۱۷ / ۵۲