کلامِ ظفرردیف ل
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چلدنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل
کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھمانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل
فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھاس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل
یہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نماسائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل
اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکلبل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل
انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپاور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل
پھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدمکہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل
ہے طرفہ امن گاہ نہاں خانۂ عدمآنکھوں کے روبرو سے تو لوگوں کے ٹل کے چل
کیا چل سکے گا ہم سے کہ پہچانتے ہیں ہمتو لاکھ اپنی چال کو ظالم بدل کے چل
ہے شمع سر کے بل جو محبت میں گرم ہوپروانہ اپنے دل سے یہ کہتا ہے جل کے چل
بلبل کے ہوش نکہت گل کی طرح اڑاگلشن میں میرے ساتھ ذرا عطر مل کے چل
گر قصد سوئے دل ہے ترا اے نگاہ یاردو چار تیر پیک سے آگے اجل کے چل
جو امتحان طبع کرے اپنا اے ظفرؔتو کہہ دو اس کو طور پہ تو اس غزل کے چل
۱۸ / ۵۲