کلامِ ظفرردیف م
مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
۱
مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہمدل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم
۲
سب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میںشمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم
۳
یاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیالبے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم
۴
جب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گلمثل شبنم ہیں ہمیشہ گریہ و زاری میں ہم
۵
چشم و دل بینا ہے اپنے روز و شب اے مردماںگرچہ سوتے ہیں بظاہر پر ہیں بیداری میں ہم
۶
دوش پر رخت سفر باندھے ہے کیا غنچہ صبادیکھتے ہیں سب کو یاں جیسے کہ تیاری میں ہم
۷
کب تلک بے دید سے یا رب رکھیں چشم وفالگ رہے ہیں آج کل تو دل کی غم خواری میں ہم
۸
دیکھ کر آئینہ کیا کہتا ہے یارو اب وہ شوخماہ سے صد چند بہتر ہیں اداداری میں ہم
۹
اے ظفرؔ لکھ تو غزل بحر و قوافی پھیر کرخامۂ در ریز سے ہیں اب گہر باری میں ہم
۱۹ / ۵۲