کلامِ ظفرردیف ن

واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں

۱

واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیںاور پھر ہم ان کے یار ہیں ہم ایسے شخص ہیں

۲

دیوانے تیرے دشت میں رکھیں گے جب قدممجنوں بھی لے گا ان کے قدم ایسے شخص ہیں

۳

جن پہ ہوں ایسے ظلم و ستم ہم نہیں وہ لوگہوں روز بلکہ لطف و کرم ایسے شخص ہیں

۴

یوں تو بہت ہیں اور بھی خوبان دل فریبپر جیسے پرفن آپ ہیں کم ایسے شخص ہیں

۵

کیا کیا جفا کشوں پہ ہیں ان دلبروں کے ظلمایسوں کے سہتے ایسے ستم ایسے شخص ہیں

۶

دیں کیا ہے بلکہ دیجئے ایمان بھی انہیںزاہد یہ بت خدا کی قسم ایسے شخص ہیں

۷

آزردہ ہوں عدو کے جو کہنے پہ اے ظفرؔنے ایسے شخص وہ ہیں نہ ہم ایسے شخص ہیں

۲۱ / ۵۲