کلامِ ظفرردیف ن
میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
۱
میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوںتیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں
۲
جزو و کل کو نہیں سمجھتا میںدل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں
۳
تجھ سے الفت نباہتا ہوں میںباوفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں
۴
جب سے ناآشنا ہوں میں سب سےتب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں
۵
نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھےاب مزے میں اڑا رہا کچھ ہوں
۶
خواب میرا ہے عین بیداریمیں تو اس میں بھی دیکھتا کچھ ہوں
۷
گرچہ کچھ بھی نہیں ہوں میں لیکناس پہ بھی کچھ نہ پوچھو کیا کچھ ہوں
۸
سمجھے وہ اپنا خاکسار مجھےخاک رہ ہوں کہ خاک پا کچھ ہوں
۹
چشم الطاف فخر دیں سے ہوںاے ظفرؔ کچھ سے ہو گیا کچھ ہوں
۲۲ / ۵۲