کلامِ ظفرردیف ن
کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
۱
کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیںاک سبب کیا بھید واں کا سب کا سب کھلتا نہیں
۲
پوچھتا ہے حال بھی گر وہ تو مارے شرم کےغنچۂ تصویر کے مانند لب کھلتا نہیں
۳
شاہد مقصود تک پہنچیں گے کیونکر دیکھیےبند ہے باب تمنا ہے غضب کھلتا نہیں
۴
بند ہے جس خانۂ زنداں میں دیوانہ تیرااس کا دروازہ پری رو روز و شب کھلتا نہیں
۵
دل ہے یہ غنچہ نہیں ہے اس کا عقدہ اے صباکھولنے کا جب تلک آوے نہ ڈھب کھلتا نہیں
۶
عشق نے جن کو کیا خاطر گرفتہ ان کا دللاکھ ہووے گرچہ سامان طرب کھلتا نہیں
۷
کس طرح معلوم ہووے اس کے دل کا مدعامجھ سے باتوں میں ظفرؔ وہ غنچہ لب کھلتا نہیں
۲۳ / ۵۲