جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھمارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں
About this couplet
This is couplet 3 of 16 in “جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۳ / ۱۶