جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
کھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂ دنبالہ دارکرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں
About this couplet
This is couplet 4 of 16 in “جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۴ / ۱۶