جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں

جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائےسیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں

About this couplet

This is couplet 6 of 16 in “⁨جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (⁨کلامِ ظفر⁩).

Read it in the poem

۶ / ۱۶