جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
کیا مزا ہے تیغ قاتل میں کہ اکثر صید عشقآن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں
About this couplet
This is couplet 7 of 16 in “جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۷ / ۱۶