کلامِ ظفرردیف ن

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

۱

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میںدرد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں

۲

خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کویہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں

۳

دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوںجلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں

۴

اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرےہیں بھرے لعل و گہر عشق کے گنجینے میں

۵

شکل آئینہ ظفرؔ سے تو نہ رکھ دل میں خیالکچھ مزا بھی ہے بھلا جان مری لینے میں

۲۵ / ۵۲