کلامِ ظفرردیف ن

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں

۱

بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوںسنے ہے کون مصیبت کہوں تو کس سے کہوں

۲

جو تو ہو صاف تو کچھ میں بھی صاف تجھ سے کہوںترے ہے دل میں کدورت کہوں تو کس سے کہوں

۳

نہ کوہ کن ہے نہ مجنوں کہ تھے مرے ہمدردمیں اپنا درد محبت کہوں تو کس سے کہوں

۴

دل اس کو آپ دیا آپ ہی پشیماں ہوںکہ سچ ہے اپنی ندامت کہوں تو کس سے کہوں

۵

کہوں میں جس سے اسے ہووے سنتے ہی وحشتپھر اپنا قصۂ وحشت کہوں تو کس سے کہوں

۶

رہا ہے تو ہی تو غم خوار اے دل غمگیںترے سوا غم فرقت کہوں تو کس سے کہوں

۷

جو دوست ہو تو کہوں تجھ سے دوستی کی باتتجھے تو مجھ سے عداوت کہوں تو کس سے کہوں

۸

نہ مجھ کو کہنے کی طاقت کہوں تو کیا احوالنہ اس کو سننے کی فرصت کہوں تو کس سے کہوں

۹

کسی کو دیکھتا اتنا نہیں حقیقت میںظفرؔ میں اپنی حقیقت کہوں تو کس سے کہوں

۲۶ / ۵۲