کلامِ ظفرردیف و
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۱
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہوخوشی ہو اس میں یا ہو غم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۲
غنیمت تم اسے سمجھو کہ اس خم خانہ میں یارونصیب اک دم دل خرم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۳
دلاؤ حضرت دل تم نہ یاد خط سبز اس کاکہیں ایسا نہ ہو یہ سم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۴
ہمیشہ چاہتا ہے دل کہ مل کر کیجے مے نوشیمیسر جام مے جم جم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۵
ہم اپنا عشق چمکائیں تم اپنا حسن چمکاؤکہ حیراں دیکھ کر عالم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۶
رہے حرص و ہوا دائم عزیزو ساتھ جب اپنےنہ کیونکر فکر بیش و کم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۷
ظفرؔ سے کہتا ہے مجنوں کہیں درد دل محزوںجو غم سے فرصت اب اک دم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
۲۷ / ۵۲