کلامِ ظفرردیف و
خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
۱
خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد توپر جو فریادی ہیں ان کی سن تو لے فریاد تو
۲
دم بدم بھرتے ہیں ہم تیری ہوا خواہی کا دمکر نہ بد خوؤں کے کہنے سے ہمیں برباد تو
۳
کیا گنہ کیا جرم کیا تقصیر میری کیا خطابن گیا جو اس طرح حق میں مرے جلاد تو
۴
قید سے تیری کہاں جائیں گے ہم بے بال و پرکیوں قفس میں تنگ کرتا ہے ہمیں صیاد تو
۵
دل کو دل سے راہ ہے تو جس طرح سے ہم تجھےیاد کرتے ہیں کرے یوں ہی ہمیں بھی یاد تو
۶
دل ترا فولاد ہو تو آپ ہو آئینہ وارصاف یک باری سنے میری اگر روداد تو
۷
شاد و خرم ایک عالم کو کیا اس نے ظفرؔپر سبب کیا ہے کہ ہے رنجیدہ و ناشاد تو
۲۸ / ۵۲