کلامِ ظفرردیف و

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہو

۱

جب کہ پہلو میں ہمارے بت خودکام نہ ہوگریے سے شام و سحر کیوں کہ ہمیں کام نہ ہو

۲

لے گیا دل کا جو آرام ہمارے یا رباس دل آرام کو مطلق کبھی آرام نہ ہو

۳

جس کو سمجھے لب پاں خوردہ وہ مالیدہ مسیمردماں دیکھیو پھولی وہ کہیں شام نہ ہو

۴

آج تشریف گلستاں میں وہ مے کش لایاکف نرگس پہ دھرا کیونکہ بھلا جام نہ ہو

۵

کر مجھے قتل وہاں اب کہ نہ ہو کوئی جہاںتا مری جاں تو کہیں خلق میں بدنام نہ ہو

۶

دیکھ کر کھولیو تو کاکل پیچاں کی گرہکہ مرا طائر دل اس کے تہ دام نہ ہو

۷

بن ترے اے بت خودکام یہ دل کو ہے خطرتیرے عاشق کا تمام آہ کہیں کام نہ ہو

۸

آج ہر ایک جو یارو نظر آتا ہے نڈھالاپنی ابرو کی وہ کھینچے ہوئے صمصام نہ ہو

۹

ہے مرے شوخ کی بالیدہ وہ کافر آنکھیںجس کے ہم چشم ذرا نرگس بادام نہ ہو

۱۰

صبح ہوتی ہی نہیں اور نہیں کٹتی راترخ پہ کھولے وہ کہیں زلف سیاہ فام نہ ہو

۱۱

اے ظفرؔ چرخ پہ خورشید جو یوں کانپے ہےجلوہ گر آج کہیں یار لب بام نہ ہو

۲۹ / ۵۲