دیوانِ غالب کاملردیف ن

اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں

۱

اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںہے حیا مانعِ اظہار کہوں یا نہ کہوں

۲

نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہرمیں بھی ہوں واقفِ اسرار کہوں یا نہ کہوں

۳

شکوہ سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھواپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں

۴

اپنے دل ہی سے میں احوالِ گرفتاریٔ دلجب نہ پاؤں کوئی غم خوار، کہوں یا نہ کہوں

۵

دل کے ہاتھوں سے، کہ ہے دشمنِ جانی اپناہوں اک آفت میں گرفتار کہوں یا نہ کہوں

۶

میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غمّازگوش ہیں در پسِ دیوار کہوں یا نہ کہوں

۷

آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔحسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں

۶۵ / ۱۹۳