دیوانِ غالبردیف الف

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا

۱

عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہاجس دل پہ ناز تھا مجھے، وہ دل نہیں رہا

۲

جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئےہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا

۳

مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر، کہ میںشایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا

۴

بر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہےیاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا

۵

وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسنغیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا

۶

گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگارلیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

۷

دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واںحاصل سوائے حسرتِ حاصل نہیں رہا

۸

جاں دادگاں کا حوصلہ فرصت گداز ہےیاں عرصۂ تپیدنِ بِسمل نہیں رہا

۹

ہوں قطرہ زن بہ مرحلۂ یاس روز و شبجُز تارِ اشک جادۂ منزل نہیں رہا

۱۰

اے آہ! میری خاطرِ وابستہ کے سوادنیا میں کوئی عقدۂ مشکل نہیں رہا

۱۱

ہر چند ہوں میں طوطیٔ شیریں سخن، ولےآئینہ، آہ،! میرے مقابل نہیں رہا

۱۲

بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔجس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

۴۴ / ۳۰۷