دیوانِ غالبردیف ی
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
۱
اُس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
۲
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
۳
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مےمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
۴
بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
۵
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنجِ ہائے گراں مایہ کیا کیے
۶
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟
۷
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خُودینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
۸
ضد کی ہے اور بات مگر خُو بری نہیںبھُولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
۹
غالبؔ تمھیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
۱۶۲ / ۳۰۷