دیوانِ غالبردیف ی
روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کی
۱
روندی ہوئی ہے کوکبہ شہریار کیاترائے کیوں نہ خاک سرِ رہ گزار کی
۲
جب اس کے دیکھنے کے لیے آئیں بادشاہلوگوں میں کیوں نمود نہ ہو لالہ زار کی
۳
بُھوکے نہیں ہیں سیرِ گلستان کے ہم ولےکیوں کر نہ کھائیے کہ ہوا ہے بہار کی
۲۲۹ / ۳۰۷