دیوانِ غالبردیف ن

تنِ بہ بندِ ہوس در نہ دادہ رکھتے ہیں

۱

تنِ بہ بندِ ہوس در نہ دادہ رکھتے ہیںدلِ زکارِ جہاں اوفتادہ رکھتے ہیں

۲

تمیزِ زشتی و نیکی میں لاکھ باتیں ہیںبہ عکسِ آئینہ یک فردِ سادہ رکھتے ہیں

۳

بہ رنگِ سایہ ہمیں بندگی میں ہے تسلیمکہ داغِ دل بہ جبینِ کشادہ رکھتے ہیں

۴

بہ زاہداں، رگِ گردن، ہے رشتۂ زنارسرِ بپائے بتے نا نہادہ رکھتے ہیں

۵

معافِ بیہُدہ گوئی ہیں ناصحانِ عزیزدلے بہ دستِ نگارے نہ دادہ رکھتے ہیں

۶

بہ رنگِ سبزہ، عزیزانِ بد زباں یک دستہزار تیغ بہ زہراب دادہ رکھتے ہیں

۷

ادب نے سونپی ہمیں سرمہ سائیٔ حیرتزبانِ بستہ و چشمِ کشادہ رکھتے ہیں

۸

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔوگرنہ ہم تو توقُّع زیادہ رکھتے ہیں

۱۱۸ / ۳۰۷