دیوانِ غالبردیف ن

دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میں

۱

دائم پڑا ہُوا ترے در پر نہیں ہُوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہُوں میں

۲

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہُوں میں

۳

یا رب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں

۴

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گناہ گار ہُوں کافَر نہیں ہُوں میں

۵

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟لعل و زمرّد و زر و گوہر نہیں ہُوں میں

۶

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟رتبے میں مہر و ماہ سے کم تر نہیں ہُوں میں؟

۷

کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس کس لیے؟کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہُوں میں؟

۸

غالبؔ وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہُوں میں

۱۱۹ / ۳۰۷