دیوانِ غالبقصائد
مدحِ شاہ
ہاں مہِ نو سنیں ہم اُس کا نامجس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
دو دن آیا ہے تو نظر دمِ صبحیہی انداز اور یہی اندام
بارے دو دن کہاں رہا غائب؟"بندہ عاجز ہے، گردشِ ایّام
اڑ کے جاتا کہاں کہ تاروں کاآسماں نے بچھا رکھا تھا دام"
مرحبا اے سرورِ خاصِ خواصحبّذا اے نشاطِ عامِ عوام
عذر میں تین دن نہ آنے کےلے کے آیا ہے عید کا پیغام
اس کو بھولا نہ چاہیے کہناصبح جو جائے اور آئے شام
ایک میں کیا؟ سب نے جان لیاتیرا آغاز اور ترا انجام
رازِ دل مجھ سے کیوں چھپاتا ہےمجھ کو سمجھا ہے کیا کہیں نمّام؟
جانتا ہوں کہ آج دنیا میںایک ہی ہے امیدگاہِ انام
میں نے مانا کہ تو ہے حلقہ بہ گوشغالبؔ اس کا مگر نہیں ہے غلام؟
جانتا ہوں کہ جانتا ہے تُوتب کہا ہے بہ طرزِ استفہام
مہرِ تاباں کو ہو تو ہو، اے ماہ!قربِ ہر روزہ بر سبیلِ دوام
تجھ کو کیا پایہ روشناسی کاجز بہ تقریبِ عیدِ ماہِ صیام
جانتا ہوں کہ اس کے فیض سے توپھر بنا چاہتا ہے ماہِ تمام
ماہ بن، ماہتاب بن، میں کون؟مجھ کو کیا بانٹ دے گا تو انعام
میرا اپنا جدا معاملہ ہےاور کے لین دین سے کیا کام
ہے مجھے آرزوئے بخششِ خاصگر تجھے ہے امیدِ رحمتِ عام
جو کہ بخشے گا تجھ کو فرِّ فروغکیا نہ دے گا مجھے مئے گلفام؟
جب کہ چودہ منازلِ فلکیکر چکے قطع تیری تیزیٔ گام
تیرے پرتو سے ہوں فروغ پذیرکوئے و مشکوئے و صحن و منظر و بام
دیکھنا میرے ہاتھ میں لبریزاپنی صورت کا اک بلوریں جام
پھر غزل کی روِش پہ چل نکلاتوسنِ طبع چاہتا تھا لگام
غزل
زہرِ غم کر چکا تھا میرا کامتجھ کو کس نے کہا کہ ہو بدنام؟
مے ہی پھر کیوں نہ میں پیئے جاؤں؟غم سے جب ہو گئی ہے زیست حرام
بوسہ کیسا؟ یہی غنیمت ہےکہ نہ سمجھیں وہ لذّتِ دشنام
کعبے میں جا بجائیں گے ناقوساب تو باندھا ہے دَیر میں احرام
اس قدح کا ہے دَور مجھ کو نقدچرخ نے لی ہے جس سے گردشِ ایّام
بوسہ دینے میں ان کو ہے انکاردل کے لینے میں جن کو تھا ابرام
چھیڑتا ہوں کہ ان کو غصہ آئےکیوں رکھوں ورنہ غالبؔ اپنا نام
کہہ چکا میں تو سب کچھ، اب تُو کہہاے پری چہرہ پیکِ تیز خرام
کون ہے جس کے در پہ ناصیہ ساہیں مہ و مہر و زہرہ و بہرام
تُو نہیں جانتا تو مجھ سے سننامِ شاہنشہِ بلند مقام
قبلۂ چشم و دل بہادر شاہمظہرِ ذو الجلال و الاکرام
شہ سوارِ طریقۂ انصافنو بہارِ حدیقۂ اسلام
جس کا ہر فعل صورتِ اعجازجس کا ہر قول معنیٔ الہام
بزم میں، میزبان قیصر و جمرزم میں اوستادِ رستم و سام
اے ترا لطف زندگی افزااے ترا عہد فرخی فرجام
چشمِ بد دور! خسروانہ شکُوہلوحش اللّٰہ! عارفانہ کلام
جاں نثاروں میں تیرے قیصرِ رومجُرعہ خواروں میں تیرے مرشدِ جام
وارثِ ملک جانتے ہیں تجھےایرج و تور و خسرو و بہرام
زورِ بازو میں مانتے ہیں تجھےگیو و گودرز و بیزن و رَہّام
مرحبا مو شگافیٔ ناوکآفریں آب داریٔ صمصام
تیر کو تیرے تیرِ غیر ہدفتیغ کو تیری تیغِ خصم نیام
رعد کا کر رہی ہے کیا دم بندبرق کو دے رہا ہے کیا الزام
تیرے فیلِ گراں جسد کی صداتیرے رخشِ سبک عناں کا خرام
فنِ صورت گری میں تیرا گُرزگر نہ رکھتا ہو دست گاہِ تمام
اس کے مضروب کے سر و تن سےکیوں نمایاں ہو صورتِ ادغام؟
جب ازل میں رقم پذیر ہوئےصفحہ ہائے لیالی و ایّام
اور ان اوراق میں بہ کلکِ قضامجملاّ مندرج ہوئے احکام
لکھ دیا شاہدوں کو عاشق کُشلکھ دیا عاشقوں کو دشمن کام
آسماں کو کہا گیا کہ کہیںگنبدِ تیز گردِ نیلی فام
حکمِ ناطق لکھا گیا کہ لکھیںخال کو دانہ اور زلف کو دام
آتش و آب و باد و خاک نے لیوضعِ سوز و نم و رم و آرام
مہرِ رخشاں کا نام خسروِ روزماہِ تاباں کا اسم شحنۂ شام
تیری توقیعِ سلطنت کو بھیدی بہ دستور صورتِ ارقام
کاتبِ حکم نے بہ موجبِ حکماِس رقم کو دیا طرازِ دوام
ہے ازل سے روانیٔ آغازہو ابد تک رسائِی انجام
۲۵۱ / ۳۰۷