دیوانِ غالبقطعات
چہار شنبہ آخرِ ماہِ صفر
۱
ہے چار شنبہ آخرِ ماہِ صَفَر چلورکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مُشک بُو کی ناند
۲
جو آئے، جام بھر کے پیے اور ہو کے مستسبزے کو رَوندتا پھرے، پُھولوں کو جائے پھاند
۳
غالبؔ یہ کیا بیاں ہے، بجُز مدحِ پادشاہبھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشتِ خواند
۴
بَٹتے ہیں سونے رُوپے کے چھلے حُضُور میںہے جن کے آگے سیم و زر و مہر و ماہ ماند
۵
یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئےلاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند
۲۷۴ / ۳۰۷