دل بے قید من در پیچ و تابیست

روم راہی کہ او را منزلی نیستاز آن تخمی کہ ریزم حاصلی نیستمن از غمہا نمی ترسم ولیکنمدہ آن غم کہ شایان دلی نیست

Urdu translation

اپنے آپ میں گم لوگ دل کے ہاتھوں قید ہیں؛ وہ سراپا درد ہیں مگر علاج کے خواہاں نہیں۔ہم سے سجدے کا مطالبہ کیوں؟ بادشاہ ویران گاؤں سے لگان وصول نہیں کرتے۔

About this couplet

This is couplet 4 of 9 in “⁨دل بے قید من در پیچ و تابیست⁩”, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Armaghan-e-Hijaz (⁨ارمغانِ حجاز⁩), published in 1938.

Read it in the poem

۴ / ۹