بپایان چون رسد این عالم پیر
بدن واماندہ و جانم در تک و پوستسوی شہری کہ بطحا در رہ اوستتو باش اینجا و با خاصان بیامیزکہ من دارم ہوای منزل دوست
English translation
My body is tired but soul still flies, to that city on way Batha lies.
You live here now and meet the fine; my object great is friend of mine.
Translated by Q.A. Kabir
Urdu translation
بدن تھک چکا ہے، مگر جان ابھی تک اس شہر (مدینہ منورہ ) کی جانب رواں دواں ہے، بطحا (مکہ مکرمہ ) جس کی راہ میں ہے۔آپ یہاں (حرم شریف میں) اپنے خاص بندوں سے صحبت رکھیں، میں تو اپنے محبوب (صلعم) کے شہر کی خواہش رکھتا ہوں۔ (حضور اکرم (صلعم) کا ارشاد ہے کہ خواص اللہ تعالے کے لیے ہیں اور عامی میرے لیے ہیں)۔
About this couplet
This is couplet 2 of 2 in “بپایان چون رسد این عالم پیر”, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Armaghan-e-Hijaz (ارمغانِ حجاز), published in 1938.
Read it in the poem۲ / ۲