ملوکیت سراپا شیشہ بازی است
مرا این سوز از فیض دم تستبہ تاکم موج می از زمزم تستخجل ملک جم از درویشی منکہ دل در سینۂ من محرم تست
English translation
To me this burning a boon of thy glow; Thy font’s wine is waving in my vine so.
In shame the Join’s realm to my content bows; with thee as my heart had tete-a-tete close.
Translated by Q.A. Kabir
Urdu translation
مجھے یہ سوز آپ (صلعم ) کے فیض سے ملا ہے؛ میرے انگور میں مے (عشق) کی جو موج ہے، وہ آپ کے زمزم کی بدولت ہے۔میری درویشی سے سلطنت جم شرمندہ ہے؛ کیونکہ میرے سینے میں جو دل ہے ، وہ آپ (صلعم ) کا محرم ہے (آپ (صلعم ) کے مقام کو پہچانتا ہے)۔
About this couplet
This is couplet 57 of 72 in “ملوکیت سراپا شیشہ بازی است”, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Armaghan-e-Hijaz (ارمغانِ حجاز), published in 1938.
Read it in the poem۵۷ / ۷۲