نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

چہ بے پروا گذشتند از نواے صبحگاہ منکہ برد آں شور و مستی از سیہ چشمان کشمیری!

English translation

They paid no heed to my midnight sigh; he took all the booze from Kashmir’s eye.

Translated by Q.A. Kabir

Word meanings

میری صبح کے وقت کی آواز سے اہل کشمیر اس طرح بے پرواہ ہو کر گزرے ہیں کہ جیسے ان کی سیاہ آنکھوں سے کوئی وہ شور و مستی لے گیا ہو جس سے وہ دوسروں پر جادو کر سکتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ یہی کشمیری جو آج غلامی اور بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں کبھی آزاد اور زندگی کے ہر شعبے میں سرفراز تھے۔

About this couplet

This is couplet 4 of 4 in “⁨نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری⁩” (Nikal kar khanqahon se ada kar rasm Shabiri) in the section The Amanuensis of Mullah Zaighum, from Allama Muhammad Iqbal's Urdu book Armaghan-e-Hijaz (⁨ارمغانِ حجاز⁩), published in 1938.

Read it in the poem

۴ / ۴