یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی
شوق زینت سے نہ تھا ربط نہ رعنائی سےدل نہ اتنا تھا لگا خوبی مرزائی سےاب تو سو بار کمر بندھتی ہے اکلائی سےدیکھتے رہتے ہو ترکیب سے خود رائی سےروسیہ آئینہ سے تم کو فراغت ہی نہیںسرمۂ تیرہ دروں سے کہیں فرصت ہی نہیں
About this couplet
This is couplet 8 of 20 in “یاد ایام کہ خوبی سے خبر تجھ کو نہ تھی” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۸ / ۲۰