ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے
تھیں فریب اگلی نگاہیں وے تمھاری بارےدامن و جیب پھٹے یاد میں ان کی سارےشوق کے ہاتھ شب و روز سروں پر مارےچھاتیاں کوٹتے ہی کوٹتے آخر ہارےروئے اتنا کہ جگر میں نہ رہی لوہو کی بونداب سماں وہ ہے کہ دیکھوگے لیاں آنکھیں موند
About this couplet
This is couplet 13 of 15 in “ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (کلامِ میر).
Read it in the poem۱۳ / ۱۵