ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے

خوبی رعنائی سے کم تجھ کو بہت فرصت ہےاپنی ترکیب بنانے سے کہاں مہلت ہےچہرہ آرائی شب و روز ہے یہ صورت ہےشانہ و زلف گتھے رہتے ہیں یہ صحبت ہےسرمے سے آنکھ اٹھاوے تو مرا رو دیکھےآرسی چھوڑے تجھے ٹک تو ادھر تو دیکھے

About this couplet

This is couplet 6 of 15 in “⁨ایک دن وے تھے کہ تم کو نہ فریب آتے تھے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Muhammad Taqi Mir's Urdu book Kalam-e-Mir (⁨کلامِ میر⁩).

Read it in the poem

۶ / ۱۵