مانند صبا خیزو وزیدن دگر آموز
دم چیست پیام است شنیدی نشنیدیدر خاک تو یک جلوہ عام است ندیدیدیدن دگر آموز شنیدن دگر آموز
Urdu translation
سانس کیا ہے؟ پیام دوست ہے، تو نے سنا یا نہیں سنا، تیری خاک میں حسن ازل کا جلوہ عام ہے مگر تو نے نہیں دیکھا۔ پھر سے دیکھنا اور سننا سیکھ۔
About this couplet
This is couplet 4 of 8 in “مانند صبا خیزو وزیدن دگر آموز” (manand-e saba khez-o wazidan digar amoz) in the section Part 2, from Allama Muhammad Iqbal's Persian book Zabur-e-Ajam (زبورِعجم), published in 1927.
Read it in the poem۴ / ۸