دیوانِ غالبردیف ی
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئے
۱
رونے سے اور عشق میں بے باک ہو گئےدھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے
۲
صرفِ بہائے مے ہوئے آلاتِ مے کشیتھے یہ ہی دو حساب، سو یوں پاک ہو گئے
۳
رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے تمبارے طبیعتوں کے تو چالاک ہو گئے
۴
کہتا ہے کون نالۂ بلبل کو بے اثرپردے میں گُل کے لاکھ جگر چاک ہو گئے
۵
پوچھے ہے کیا وجود و عدم اہلِ شوق کاآپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہو گئے
۶
کرنے گئے تھے اس سے تغافُل کا ہم گِلہکی ایک ہی نگاہ کہ بس خاک ہو گئے
۷
پوچھے ہے کیا معاشِ جگر تُفتگانِ عشقجوں شمع آپ اپنی وہ خوراک ہو گئے
۸
اس رنگ سے اٹھائی کل اُس نے اسدؔ کی نعشدشمن بھی جس کو دیکھ کے غم ناک ہو گئے
۲۲۱ / ۳۰۷