ارمغانِ حجازملا زادہ ضیغم لولا بے کشمیری کا بیاض
سر اکبر حیدری، صدراعظم حیدرآباد دکن کے نام
To Sir Akbar Hydari Prime Minister Of Hyderabad Deccan
'یوم اقبال' کے موقع پر توشہ خانہ حضور نظام کی طرف سے، جو صاحب صدراعظم کے ماتحت ہے ایک ہزار روپے کا چیک بطور تواضع وصول ہونے پر
۱
تھا یہ اللہ کا فرماں کہ شکوہ پرویزدو قلندر کو کہ ہیں اس میں ملوکانہ صفات
It was God’s order that grandeur of kings, give to a Hermit who holds the king’s wings.
۲
مجھ سے فرمایا کہ لے، اور شہنشاہی کرحسن تدبیر سے دے آنی و فانی کو ثبات
He bade me, ‘take reins and rule like kings, with wits beauty show them, the lasting springs.’
۳
میں تو اس بار امانت کو اٹھاتا سر دوشکام درویش میں ہر تلخ ہے مانند نبات
I was ready to lift His Trust on Wings, each bitter in my palate turns sweet things.
۴
غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبولجب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات!
My faqr’s envy but took not this role, when he said it was His Godship’s dole.
۱۰۳ / ۱۰۵